PDA

View Full Version : *اللہ تک پہنچنے کا راستہ*



MazharShafiq
12-08-2018, 03:45 PM
*افادات : شیخ الاسلام مفتی تقی عثمانی صاحب حفظہ اللہ*

*عبداللہ بن حزافہؓ دشمن کی قید میں جوش و ہوش کی نادر مثال*

حضرت عمرؓ نے اہلِ روم کی طرف ایک لشکر روانہ کیا جس کے امیر حضرت عبداللہ بن حذافہ ؓتهے، دشمن نے انهیں ان کے ساتهیوں کو گرفتار کرلیا ،جب یہ مقدس قیدی کو بادشاهِ روم کے پاس لیجائےگئے، تو اس نے حضرت عبدالله بن حذافہ ؓ کو پیش کش کی کہ اگرتم عیسائی بن جاؤ تو میں تمہیں اپنی سلطنت میں شریک کرلوں گا، بے چارہ سمجھتا تها کہ مال و دولت اور اقتدار کا لالچ اس صحرا نشیں کو ڈگمگا دےگا اسے کیا معلوم تها کہ سامنے ایک محمد عربی ﷺ کا جاں نثار ہے جس کے فقر و فاقہ پر ایک نہیں، ہزاروں سلطنتیں قربان ہوتی ہیں ،حضرت عبدالله بن حذافہ ؓ نے اس پیش کش کو ٹهکرادیا۔
اس کا صلہ حضرت عبدالله بن حذافہ ؓ کو وہی ملناتهاجودنیا راه حق پرثابت قدم رہنے والوں کو دیا کرتی ہے ۔بادشاه نے حکم دیا کہ انهیں سولی پر چڑھا کر تیر مارے جائیں یہاں تک کہ وہ ہلاک ہوجائیں۔ سپاہیوں نے انھیں سولی پر چڑھادیا کمانوں کے چلے ان کاجسم چھلنی کرنے کےلئے تیارتھے ،موت سامنے رقص کررہی تھی ،لیکن یہ دیکھ کر بادشاہ حیران رہ گیا کہ اس بندۂ خدا مست کے چہرے پر گھبراہٹ ،پریشانی یا خوف و ہراس کا دور دور تک کوئی پتہ نہیں ۔موت سے آنکھیں ملاکر مسکرانے والے اس بادشاہ نے کب اور کہاں دیکھے تھے؟ لیکن اس نے سوچا کہ انہیں قتل کرنے کا کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہئیے جس سے یہ نڈر انسان بھی گھبرا اٹھے، چنانچہ اس نےحکم دیا کہ انہیں سولی سے اتارکر لایا جائے اور ایک دیگ میں پانی ڈال کر اسے جوش دیاجائے ۔جب دیگ کھولنے لگی تو حضرت عبدالله بن حذافہ ؓکے مقدس ساتھیوں میں سے ایک قیدی کو لاکر ان کے سامنے دیگ میں ڈال دیاگیا، حضرت عبدالله بن حذافہ ؓنے دیکھا کہ اس دیگ میں گرتے ہی ان کی ہڈیوں سے گوشت اترگیا ۔اور ہڈیاں چمکنے لگیں۔ بادشاہ نےکہاکہ اگر تم نے عیسائی مذہب اختیار نہ کیا تو یہی انجام تمہارا بھی ہوناہے لیکن یہ ہولناک منظر بھی حضرت عبدالله بن حذافہ ؓ کے پائے استقامت میں لغزش نہ پیدا کرسکا ،ان کے پاس ایک ہی جواب تھا اس کھولتی ہوئی دیگ میں گر کر جھلس جانا مجھے گواراہے ،مگر اسلام کو چھوڑنا گوارا نہیں۔ چنانچہ سپاہی انہیں بھی دیگ میں ڈالنے کےلئے لے چلے، مگر یہاں ایک عجیب منظر نظر آیا ۔وہی حضرت عبدالله بن حذافہ ؓجو تختۂ دار پر مسکراتے نظر آئےتھے ،اب دیگ کے قریب ان کی آنکھوں میں آنسو جھلک رہےتھے ،بادشاہ سمجھا کہ یہ میری فتح ہے، اس نے فورًا انہیں واپس بلایا اور رونے کا سبب پوچھا ۔ حضرت عبدالله بن حذافہؓ نے جواب دیا۔
"رونے کی وجہ یہ ہے کہ کاش! میری سوجانیں ہوتیں ،اور ہر جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں یہی معاملہ کیاجاتا-"
بادشاہ یہ سن کر حیران رہ گیا،ایک انتہائی اذیت ناک موت کے منہ میں جانے والے کسی شخص سے ایسے جواب کی توقع نہ تھی.بالآخر اس نے شاید یہ سوچا ہو کہ ایسے شخص کی سزا اسے مارنا 'نہیں زندہ رکھناہے'اس لئے ان سے مخاطب ہوکر کہا..
اچھا! تم میرے سر کو بوسہ دیدو میں تمہیں چھوڑدوں گا!"
حضرت عبد اللہ نے فرمایا:"اگر اس کے عوض صرف مجھے نہیں'بلکہ میرے تمام ساتھیوں کو چھوڑ دو تو مجھے منظور ہے.
بادشاہ نے کہا: ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھیوں کو رہا کردوں گاـ"
حضرت عبد اللہ بن حذافہ آگے بڑھے اس کے سر کو بوسہ دیا اور تمام ساتھیوں کو صحیح سلامت واپس لےآئےـ
جب یہ مقدس قافلہ حضرت عمر کےپاس پہنچا اور حضرت عمر نے پورا قصہ سنا تو اپنی جگہ سے کھڑے ہوگئے اور حضرت عبد اللہ بن حذافہ کے سر کو بوسہ دیاکہ انہوں نےکیسے جوش ایمانی اور کیسے فراست وحکمت سے اپنے لشکرکی قیادت فرمائی۔ اور کس معجزانہ طورپر انہیں واپس لے آئےـ
(الاصابہ للحافظ ابن حجرص۲۸۸'ج۲'بحوالہ بیقہی وابن عساکر)

*اللہ تک پہنچنے کا راستہ*
حضرت ابوزید بسطامی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نے اپنے پروردگار کو خواب میں دیکھا اور پوچھا:
یا اللہ!آپ تک پہنچنے کا راستہ کیاہے؟"
جواب ملا: أترك نفسك وتعال!اپنے نفس کو چھوڑ دو اور چلے آؤ
(الاعتصام للشاطبی ص۳۵۲)

( *تراشے صفحہ 102- 103*)
Reply

Login/Register to hide ads. Scroll down for more posts
azc
12-09-2018, 04:27 AM
اورایک ہم ہیں اس دور کے مسلمان ۔ ایمان تو ہیے لیکن کمزور ۔

ہمارے اسلاف واقعی عجیب لوگ تھے
Reply

MazharShafiq
12-09-2018, 06:55 AM
اللہ کا ڈر دلوں سے نکل گیا ہے
Reply

azc
12-09-2018, 10:35 AM
Originally Posted by MazharShafiq
اللہ کا ڈر دلوں سے نکل گیا ہے
الله ہم سے بہت محبت کرتا ہیے لیکن ہم اپنے الله سے محبت کرنا بھول گۓ

حضرت عبدالله بن حذافہؓ نے جواب دیا۔
"رونے کی وجہ یہ ہے کہ کاش! میری سوجانیں ہوتیں ،اور ہر جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں یہی معاملہ کیاجاتا-"

یہ اللہ کا ڈر نہیں محبت ہیے
Reply

Hey there! Looks like you're enjoying the discussion, but you're not signed up for an account.

When you create an account, you can participate in the discussions and share your thoughts. You also get notifications, here and via email, whenever new posts are made. And you can like posts and make new friends.
Sign Up

Similar Threads

HeartHijab.com | Hijab Sale | Pound Shop | International Institute of Entrepreneurship and Professional Development - IIEPD | Truly Halal Humour

IslamicBoard

Experience a richer experience on our mobile app!