MohammadRafique
Elite Member
- Messages
- 273
- Reaction score
- 10
- Gender
- Male
- Religion
- Islam
انسانی ذات سے متعلق ایسے حقائق جو کبھی چھپتے نہیں بلکہ ظاہر ہو کر رہتے ہیں
سوال یہ ہے کہ عام زندگی میں حق کی تعریف کیا ہے اور یہ کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے
Bye Mohammed Rafique EteSame
حق اور حقیقت سے مراد قطعی اور واقعی چیز ہے اور یہ لفظ سچ، قرآن مجید ، عدل و انصاف اسلام، ٹھیک اور درست کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ’’حق‘‘ خدا تعالی کا ایک نام بھی ہے۔ (مفتاح اللّغات)
مثلاًانسان اگر باطن میں کچھ اور ہے اور ظاہر میں کچھ اور تو باطن میں وہ جو کچھ چھپا رہا ہے وہ ظاہر ہو کر رہتا ہے چاہے اسے چھپانے کی لاکھ کوشش ہی کیوں نہ کی بقول شاعر..........
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
۔ اسکی حرکات و سکنات ، چال ڈھال، بولنے کا انداز اس کے باطن کی چغلی کھاتا ہے اور دیکھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی بات ہے جو چھپائی جا رہی ہے کیونکہ چہرہ بہت کچھ بتاتا ہے انسان کی اندرونی کیفیت کو اس کے چہرے پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ آنکھیں روح کا دریچہ ہیں۔ اگر کسی شخص کے کسی سے کوئی خفیہ تعلقات ہیں تو جب وہ ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو بات چیت اور باہم دیکھنے کا انداز فوراً بتاتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان کچھ ہے کہ… تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب کسی کے کسی سے خفیہ تعلقات قائم ہو جائیں تو دیکھنے والوں کو پہلے پہل ان دونوں پر شک گذرتا ہے پھر وہ خاص طور پر انکا دھیان رکھتے ہیں اور خفیہ نگرانی کرتے ہیں اور آخرکار انکا راز فاش ہو جاتا ہے اور وہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں کیونکہ ع......
عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں انسان چھپانے کی ساری زندگی کوشش کرتا ہے مگر وہ چھپ نہیں سکتی اور ظاہر ہو کر رہتی ہیں کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے وہ فرشتہ نہیں ہے اور نفس امارہ اور شیطان کے بہکاوے میں ا کر ایسے ایسے غیر اخلاقی اور غیر شرعی اعمال کرتا ہے جو کہ ظاہر ہونے کے قابل نہیں ہوتے مگر وہ ظاہر ہو کر رہتے ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے ایسےدو فرشتے ہر انسان کے ساتھ مقرر کیے ہیں جو اس کے اچھے یا برے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں وہ انسان کو نظر نہیں اتے مگر انسان 24 گھنٹے میں جو جو اعمال کرتا ہے وہ اس کو لکھتے رہتے ہیں- ارشاد باری تعالی ہے 'تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو ﴿۹﴾ حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں ﴿۱۰﴾ عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے ﴿۱۱﴾ جو تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ' یں
﴿۱۲﴾ اور جب روز قیامت انسان کو اس کا نامہ اعمال یعنی وہ کتاب جس پر اس کے عمل ظاہر یا باطن لکھے ہوئے ہیں اس کو دی جائے گی تو وہ حقہ بکا رہ جائے گا اور حیران ہو کر یہ کہے گا کہ یہ کیسی کتاب ہے اس نے میرے کسی بات کو نہیں چھوڑا میرے کسی عمل کو نہیں چھوڑا اور ہر عمل اس میں لکھا ہوا ہے ارشاد باری تعالی ہے' اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا '﴿۴۹﴾
مثال کے طور پر انسان کے کئی روپ اور رنگ ہیں وہ بادشاہ بھی ہے فقیر بھی ہے۔ موَحِّدبھی ہے مشرک بھی ہے ۔ ظالم و جابر بھی ہے منصف بھی ہے ۔ عابد و زاھد بھی ہے گنہگار بھی ہے مخلص بھی ہے ریاکار بھی ہے غرض اپنی ذات میں ایک انجمن ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس نے کسی پر ظلم کیا یا تکلیف دی ،یا اس کا حق دبایا یا کسی کے ساتھ بھلائی کی، اسکی داد رسی اور غمخواری کی یا عبادت و ریاضت کی اور نفس کو مشقت میں ڈالا تو کیا انکاردعمل ایک نہ ایک روز سامنے آئے گا یا وہ لوگ جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں مگر انکی فریاد سننے والا کوئی نہیں ، اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور شہید ہوجاتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنے نفس کو مشقت میں ڈالتے ہیں اور طرح طرح کے مجاہدات میں مشغول رہتے ہیں تو کیا ان لوگوں کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا یا نہیں ؟ توازروئے شرع ضرور ملے گاکیوں کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہے اور ہر عمل کی ایک جزا ہے اور روزقیامت اسی لئے ہے جس دن نیکو کاروں اور بدکاروں کو انکے کئے کا پورا اجر ملے گا اور رتی رتی کا حساب ہوگا اور احکم الحاکمین کے دربار سے تمام لوگوں کو انصاف ملے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا فرما ن الٰہی ہے۔ ’’ سو جس نے کی ذرہ بھر بھلائی وہ دیکھ لے گا اسے اور جس نے کی ذرہ بھر برائی وہ دیکھ لے گا اسے ‘‘(الزلزال: ۸) تفسیر میں لکھا ہے کہ ہر ایک کا ذرہ ذرہ عمل بھلا ہو یا برا اس کے سامنے ہوگا اور حق تعالی جو کچھ معاملہ ہر ایک عمل کے متعلق فرمائیں گے وہ بھی آنکھوں سے نظر آئے گا۔
لہذا جو لوگ اس خیال میں ہیں کہ کسی پر ظلم کرنے کے باوجود مواخذہ سے بچ جائیں گے۔ یا کسی کا حق دبا لینے سے انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں یا جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر کوئی حساب لینے والا نہیں تو وہ خوش فہمی و خود فریبی میں مبتلا ہیں
کیونکہ انکے اعمال کی حقیقت ظاہر ہو گی اس لئے کہ حق کا کام چھپنا نہیں بلکہ ظاہر ہونا ہے
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام احکامات کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم روز قیامت ہر قسم کی پریشانی سے بچ سکیں امین
سوال یہ ہے کہ عام زندگی میں حق کی تعریف کیا ہے اور یہ کن معنوں میں استعمال ہوتا ہے
Bye Mohammed Rafique EteSame
حق اور حقیقت سے مراد قطعی اور واقعی چیز ہے اور یہ لفظ سچ، قرآن مجید ، عدل و انصاف اسلام، ٹھیک اور درست کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے اور ’’حق‘‘ خدا تعالی کا ایک نام بھی ہے۔ (مفتاح اللّغات)
مثلاًانسان اگر باطن میں کچھ اور ہے اور ظاہر میں کچھ اور تو باطن میں وہ جو کچھ چھپا رہا ہے وہ ظاہر ہو کر رہتا ہے چاہے اسے چھپانے کی لاکھ کوشش ہی کیوں نہ کی بقول شاعر..........
حقیقت چھپ نہیں سکتی بناوٹ کے اصولوں سے
۔ اسکی حرکات و سکنات ، چال ڈھال، بولنے کا انداز اس کے باطن کی چغلی کھاتا ہے اور دیکھنے والے سمجھ جاتے ہیں کہ کوئی بات ہے جو چھپائی جا رہی ہے کیونکہ چہرہ بہت کچھ بتاتا ہے انسان کی اندرونی کیفیت کو اس کے چہرے پر ملاحظہ کیا جاسکتا ہے اس لئے کہ آنکھیں روح کا دریچہ ہیں۔ اگر کسی شخص کے کسی سے کوئی خفیہ تعلقات ہیں تو جب وہ ایک دوسرے کے سامنے آتے ہیں تو بات چیت اور باہم دیکھنے کا انداز فوراً بتاتا ہے کہ ان دونوں کے درمیان کچھ ہے کہ… تاڑنے والے قیامت کی نظر رکھتے ہیں عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ جب کسی کے کسی سے خفیہ تعلقات قائم ہو جائیں تو دیکھنے والوں کو پہلے پہل ان دونوں پر شک گذرتا ہے پھر وہ خاص طور پر انکا دھیان رکھتے ہیں اور خفیہ نگرانی کرتے ہیں اور آخرکار انکا راز فاش ہو جاتا ہے اور وہ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں کیونکہ ع......
عشق اور مشک چھپائے نہیں چھپتے۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ کچھ چیزیں ایسی ہیں جنہیں انسان چھپانے کی ساری زندگی کوشش کرتا ہے مگر وہ چھپ نہیں سکتی اور ظاہر ہو کر رہتی ہیں کیونکہ انسان خطا کا پتلا ہے وہ فرشتہ نہیں ہے اور نفس امارہ اور شیطان کے بہکاوے میں ا کر ایسے ایسے غیر اخلاقی اور غیر شرعی اعمال کرتا ہے جو کہ ظاہر ہونے کے قابل نہیں ہوتے مگر وہ ظاہر ہو کر رہتے ہیں کیونکہ اللہ تبارک و تعالی نے ایسےدو فرشتے ہر انسان کے ساتھ مقرر کیے ہیں جو اس کے اچھے یا برے اعمال کو لکھتے رہتے ہیں وہ انسان کو نظر نہیں اتے مگر انسان 24 گھنٹے میں جو جو اعمال کرتا ہے وہ اس کو لکھتے رہتے ہیں- ارشاد باری تعالی ہے 'تم لوگ جزا کو جھٹلاتے ہو ﴿۹﴾ حالانکہ تم پر نگہبان مقرر ہیں ﴿۱۰﴾ عالی قدر (تمہاری باتوں کے) لکھنے والے ﴿۱۱﴾ جو تم کرتے ہو وہ اسے جانتے ' یں
﴿۱۲﴾ اور جب روز قیامت انسان کو اس کا نامہ اعمال یعنی وہ کتاب جس پر اس کے عمل ظاہر یا باطن لکھے ہوئے ہیں اس کو دی جائے گی تو وہ حقہ بکا رہ جائے گا اور حیران ہو کر یہ کہے گا کہ یہ کیسی کتاب ہے اس نے میرے کسی بات کو نہیں چھوڑا میرے کسی عمل کو نہیں چھوڑا اور ہر عمل اس میں لکھا ہوا ہے ارشاد باری تعالی ہے' اور (عملوں کی) کتاب (کھول کر) رکھی جائے گی تو تم گنہگاروں کو دیکھو گے کہ جو کچھ اس میں (لکھا) ہوگا اس سے ڈر رہے ہوں گے اور کہیں گے ہائے شامت یہ کیسی کتاب ہے کہ نہ چھوٹی بات کو چھوڑتی ہے نہ بڑی کو۔ (کوئی بات بھی نہیں) مگر اسے لکھ رکھا ہے۔ اور جو عمل کئے ہوں گے سب کو حاضر پائیں گے۔ اور تمہارا پروردگار کسی پر ظلم نہیں کرے گا '﴿۴۹﴾
مثال کے طور پر انسان کے کئی روپ اور رنگ ہیں وہ بادشاہ بھی ہے فقیر بھی ہے۔ موَحِّدبھی ہے مشرک بھی ہے ۔ ظالم و جابر بھی ہے منصف بھی ہے ۔ عابد و زاھد بھی ہے گنہگار بھی ہے مخلص بھی ہے ریاکار بھی ہے غرض اپنی ذات میں ایک انجمن ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر اس نے کسی پر ظلم کیا یا تکلیف دی ،یا اس کا حق دبایا یا کسی کے ساتھ بھلائی کی، اسکی داد رسی اور غمخواری کی یا عبادت و ریاضت کی اور نفس کو مشقت میں ڈالا تو کیا انکاردعمل ایک نہ ایک روز سامنے آئے گا یا وہ لوگ جن پر ظلم کے پہاڑ توڑے جاتے ہیں مگر انکی فریاد سننے والا کوئی نہیں ، اور وہ لوگ جو اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور شہید ہوجاتے ہیں اور وہ لوگ جو اپنے نفس کو مشقت میں ڈالتے ہیں اور طرح طرح کے مجاہدات میں مشغول رہتے ہیں تو کیا ان لوگوں کو اپنے اعمال کا بدلہ ملے گا یا نہیں ؟ توازروئے شرع ضرور ملے گاکیوں کہ ہر عمل کا ایک رد عمل ہے اور ہر عمل کی ایک جزا ہے اور روزقیامت اسی لئے ہے جس دن نیکو کاروں اور بدکاروں کو انکے کئے کا پورا اجر ملے گا اور رتی رتی کا حساب ہوگا اور احکم الحاکمین کے دربار سے تمام لوگوں کو انصاف ملے گا اور کسی پر ظلم نہیں کیا جائے گا فرما ن الٰہی ہے۔ ’’ سو جس نے کی ذرہ بھر بھلائی وہ دیکھ لے گا اسے اور جس نے کی ذرہ بھر برائی وہ دیکھ لے گا اسے ‘‘(الزلزال: ۸) تفسیر میں لکھا ہے کہ ہر ایک کا ذرہ ذرہ عمل بھلا ہو یا برا اس کے سامنے ہوگا اور حق تعالی جو کچھ معاملہ ہر ایک عمل کے متعلق فرمائیں گے وہ بھی آنکھوں سے نظر آئے گا۔
لہذا جو لوگ اس خیال میں ہیں کہ کسی پر ظلم کرنے کے باوجود مواخذہ سے بچ جائیں گے۔ یا کسی کا حق دبا لینے سے انہیں کوئی پوچھنے والا نہیں یا جو کچھ وہ کر رہے ہیں اس پر کوئی حساب لینے والا نہیں تو وہ خوش فہمی و خود فریبی میں مبتلا ہیں
کیونکہ انکے اعمال کی حقیقت ظاہر ہو گی اس لئے کہ حق کا کام چھپنا نہیں بلکہ ظاہر ہونا ہے
اللہ تبارک و تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اپنے تمام احکامات کو نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ حسنہ کے مطابق پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے تاکہ ہم روز قیامت ہر قسم کی پریشانی سے بچ سکیں امین