یہود سے دوستی:۔
اللہ رب العزت نے قرآن پاک میں مسلمانوں کو خبر دار کیا ہے کہ ’’یہود ونصاریٰ تمہارے دوست ہر گز نہیں ہو سکتے ‘‘ایک ہم ہیں کہ اللہ کی نا فرمانی کرتے ہوئے اللہ کی نافرمان قوم کیساتھ دوستی کرنے جا رہے ہیں ہمارے نزدیک ہمارے مفادات عزیز ہیں جبکہ اللہ رب العزت کا فرمان کوئی حیثیت نہیں رکھتا ،اللہ رب العزت کی ذات کو یہ معلوم ہے کہ یہ سر کش قوم یہود نا مسعود مکار قوم ہے اور ریشہ دوانیوں اور نافرمانیوں سے باز نہیں آتی اسی لیے اپنے پیارے محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو خبردار فرما دیا کہ ’’یہ تمہارے ہر گز دوست نہیں ہو سکتے ‘‘ تو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اُن سے دوستی ختم کردی اور اہل یہود کو مدینہ سے نکال باہر کیا لیکن ہم فرمان باری تعالیٰ اور اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو بالائے طاق رکھ کر دوستی کرنے جا رہے ہیں ۔
اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی نا فرمانی کی کیا سزا ہوتی ہے یہ مسلمان بخوبی جانتا ہے ۔اس سے پہلے کہ اللہ رب العزت کا عذاب نازل ہو ہمیں توبہ کرناچاہیے اور اسرائیل سے دوستی کی پینگیں نہیں بڑھانا چاہیے ورنہ پھر قیامت کے دن ہمارا حشر بھی یہود کیساتھ ہو گا کیونکہ اللہ کا ارشاد یہ بھی ہے ’’جو کسی قوم کی مشابہت اختیار کرے گا وہ انہی میں سے ہے اور اس کا حشر انہی کیساتھ ہو گا‘‘ (القرآن) یہاں مشابہت سے مراد اس قوم کی پالیسیوں پر عمل پیرا ہونا اُن کے اصول اپنانا ان کی دوستی میں اپنے رب کے احکام وفرائض کو بھول جانا بھی شامل
ہے ۔
قمر احمد سبزواری
چیف ایڈیٹر ماہنامہ سبیل ہدایت لاہور